بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جو کچھ ان دنوں آبنائے باب المندب میں رونما ہو رہا ہے، یہ یمن میں محض ایک میدانی تبدیلی نہیں ہے؛ بلکہ جنگ جغرافیہ اس وعدے کا جواب دے رہی ہے جس میں مہینوں پہلے ان محاذوں کھولنے کی بات کی گئی تھی جہاں دشمن زیادہ کمزور اور زد پذیر ہے۔

"وہ وعدہ جو سچا تھا" شاید اس عظیم واقعے کا سب سے درست عنوان ہو جو آج بحیرہ احمر کے ساحل پر اور باب المندب کے آس پاس رونما ہو رہا ہے۔
یمن کے مغربی ساحلوں پر انصاراللہ برادران کی پیش قدمی اور باب المندب تک رسائی، محض ایک ایسی پیشرفت نہیں ہے جو یمن کے جنگی نقشے میں ہوئی ہے؛ بلکہ یہ اس قاعدے اور فارمولے کے ایک حصے کی تکمیل ہے جس کا امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے مارچ 2026 کے پیغام میں وعدہ کیا تھا کہ: "دشمن کے خلاف دوسرے محاذ کھولنے کے بارے میں، مطالعات انجام پا چکی ہیں، ـ جہاں اس کا تجربہ ناکافی ہے اور وہ شدید کمزور ہوگا، ـ اور ان محاذوں کی فعال سازی (Activation)، جنگی صورتحال کے امتداد ـ اور مصلحتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ـ ممکن ہوگی"۔
جو چیز اس پیش رفت کی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے وہ محض باب المندب کا نام نہیں ہے؛ معاملہ اس مقام پر مزاحمت و مقاومت کی اندرونی پیدا کردہ طاقت ہے، اس مقام پر جہاں برسوں کوشش کی گئی کہ اس کو فوجی اتحادوں اور علاقائی انتظامات کے ذریعے قابو میں لایا جائے اور اس کی سلامتی کا خاتمہ کیا جائے۔
آج، جزیرہ نمائے عرب سے واشنگٹن تک، بے چینی کے آثار زیادہ عیاں و نمایاں ہو گئے ہیں؛ ریاض کے واشنگٹن سے رابطے اور امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش، ـ ایسے حالات میں جبکہ ٹرمپ کی جانب سے متوقعہ جواب حاصل نہیں ہؤا ـ اپنے خاص مفہوم اور پیغام کی حامل ہے، اور اب تک مکہ کے نئے اتحادیوں [پاکستان اور ترکیہ] کی اس فوجی تصادم میں سنجیدہ شرکت کا کوئی ارادہ منظر عام پر نہیں آیا ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی خبر آئی ہے۔ پاکستان نے فی الحال شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، اور ترکیہ نے انصار اللہ کے خلاف مذمتی پیغام پر اکتفا کیا ہے۔
ان حالات میں، محض "یمن بمقابلۂ اتحاد" اہم نہیں ہے؛ بلکہ جنگ کا ایک فریق [لبنان کے علاقے] 'علی الطاہر' میں [صہیو-امریکی محاذ کی] پیش قدمی کے مقابلے میں مقاومت کے جغرافئے کو ایک ملک کے محدود میدان سے نکال کر اسٹراٹیجک مذکورہ محاذ پر دباؤ ڈالنے کے مختلف نقاط کے مربوط کے نیٹ ورک میں تبدیل کرنے لئے کوشاں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: یاسر زندی
ترجمہ: ام فروی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ